Showing posts with label مذھب. Show all posts
Showing posts with label مذھب. Show all posts
Saturday, June 25, 2016
Sunday, June 12, 2016
Sunday, November 15, 2015
تضاد
پاکستان سے لوگ یورپ آتے ہیں امریکہ کینیڈا جاتے ہیں ۔ گھر والے قرض لے کر گھر کی عورتیں اپنا زیور بیچ کر اپنے بیٹوں اور شوہروں کو پردیس بھیجتی ہیں کئ رستے میں مارے جاتے ہیں ۔ باقی برسوں محنت کرتے اپنی زندگی سیٹ کرنے کے لیے ۔ جو بھی یہاں آتا ہے اس کا مقصد یہاں تباہی مچانا نہیں ہوتا ایک بہترین مستقبل اور پاکستان میں اپنے گھر والوں کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے ۔ جب بھی کو ئ دھشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو ان سب لوگوں کو نفرت اور ہر طرح کے ری ایکشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے لوگ فرانس کے واقعے کے بعد جن لوگوں نے اپنی ڈی پیز فرانس کے پرچم کے ساتھ لگائے ہیں انھوں لعن طعن کر رہے ہیں -جتنے بھی لوگ فرانس کا پرچم لگا رہے ہیں ان کا مطلب یہ ہر گز نہیں انھیں پاکستان یا اسلام سے محبت نہیں ۔ اس کا صرف ایک مقصد ہے وہ دھشت گردوں کے ساتھ نہیں ۔
جن کے دل میں اسلام کا درد جاگا ہوا ہے پاکستانیت جن میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئ ہے ۔ روزانہ کسی نا کسی اسلامی ملک میں درجنوں لوگ مر رہے ہیں وہ کیا کرتے ہیں ؟؟ پاکستان میں ھزارہ کمیونٹی کے ھزاروں لوگ مارے گئے کیا ہوا ؟؟ درباروں مزاروں مساجد میں بے گناہ مارے گئے تو یہی لوگ صفائ پیش کرتے نظر آتے ہیں یہ کس وجہ سے کر رہے ہیں تب صرف صفائ دیتے نظر آتے ہیں - مذمت کرنے کی بھی توفیق نہیں ملتی ۔ اور اگر ان کا یا ان کے بیٹوں کو یورپ اور امریکہ کا ویزہ مل جاتا ہے تو خوشی سے لڈو بانٹتے نظر آتے ہیں
ٹی وی پر خبر آرہی ہے دوسری جنگِ عظیم کے بعد فرانس میں پہلی بار اتنے لوگ اتنے لوگ مارے گئے ہیں - سارا یورپ ایک ساتھ اکھٹا کھڑا ہے - مسلم امہ کا شور مچانے والے کب اور کہاں اکھٹے ہوئے تھے ایک محلے کی مسجد میں لوگ مارے جاتے ہین تو فرقہ دیکھ کر افسوس کرتے ہیں - مگر چاہتے ہیں دنیا ہمارے دکھ کو محسوس کرے جب ہم خود اپنے دکھ کو محسوس نہیں کرتے تو دنیا کو کیا پڑی ہے کتنے ملک تباہ ہو گئے مسلم امہ کیا ایک ساتھ کھڑی ہوئ کہ اگر کسی مسلم ملک کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا تو ہم ایک ہیں -
یہ دکھ نا قابلِ برداشت ہے لوگ فرانس کے دکھ میں دکھی کیوں ہو رہے ہیں - جب تک تضاد ختم نہیں ہوں گے ہم مار کھاتے رہیں گے
Sunday, February 1, 2015
میرا رب
پارلر سے نکلتے ھوئے حسبِ عادت میں نے خدا حافظ کہا ۔۔ میرے ساتھ جو میری دوست تھی اس نے میرا بازو زور سے دبایا - میں نے ا س کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے کے عجیب سے تاثرات تھے مجھے حیرت ھوئ میں نے ایسا کیا کہا یا کیا کر دیا جو وہ مجھے ایسے دیکھ رھی ھے
وہ سرگوشی میں بولی تم نے اسے خدا حافظ کہا وہ تو ھندو ھے
اس میں اتنی بڑی بات کیا ھے اللہ ھی حفاظت کرنے والا ھے
مگر وہ تو بھگوان کو مانتے ھیں
اگر اللہ کو نہیں مانتے تو کیا ۔
اس کی آواز رونے والی ھو گئ اللہ حافظ کا مطلب ھے اللہ حفاظت کرے ۔ جب وہ اللہ کو نہیں مانتی تو ھمارا اللہ کیوں حفاظت کرے
میرا بے اختیار ہنسی آگئ - پہلے بھی کسی سے اسی بات پہ بحث ھو چکی تھی
گویا ہم اللہ کو مانتے ہیں ہماری حفاظت کی ذمہ داری ہمارے اللہ پہ فرض ھے ۔۔ ہمارا اللہ کیوں اوو ٹائم لگائے اور ان لوگوں کی
حفاظت کرے جو اسے مانتے نہیں ہیں
مطلب کیا ہے اس کا ؟؟؟
کیا واقعے کوئ بھگوان ھے ؟؟ جس میں اتنی طاقت ہے وہ پیدا کرے حفاظت کرے لوگوں کی دعائیں سنے ؟؟
جب کوئ بیمار ھو تو بیماری میں شفاء دے ۔زندگی دے موت دے - کیا کوئ بھگوان ہے جو لوگوں کی دعائیں سن سکتا ھے ؟؟
نہیں ------ بالکل بھی نہیں
کوئ اللہ کہے کوئ بھگوان ۔ کوئ گاڈ ۔۔ کوئ گرو کوئ سائیں - رب کہو یا مولا
پیدا کرنے والا ایک ھے وہ زندگی دیتا ھے موت دیتا ھے ۔ محنت کا پھل دیتا ھے وہ کوئ بھی ھو کوئ مسلمان ھو ھندو عیسائ یا دھریا
ہے تو سبھی اس کے بندے ۔ ہاں تقویٰ کا فرق ہے ۔
دنیا میں اللہ کی پیدا کی ھوئ مخلوق چار سو نظر آتی ہے ۔ کوئ بھی بے مقصد نہیں ۔اللہ کسی کو بے مقصد پیدا نہیں کرتا اس کی حکمت ہم نہیں جانتے ۔ آنے والے وقت میں کیا ھوگا آج سے پچاس برس بعد آج سے پانچ سو برس بعد مگر اللہ سب جانتا ھے ۔
ھزاروں برس پہلے جب ھندوؤں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجنا شروع کیا مگر اللہ نے انھیں تباہ و برباد نہیں کیا اس کے لیے تو کچھ بھی مشکل نہیں - صرف ایک کن کہنے کی دیر ھے پھر سب کچھ ھونے لگتا ھے - اللہ جانتا تھا انھی بت پرستوں میں سے اللہ کے ماننے والے نیک لوگ پیدا ھوں گے ۔ ان ھندو عیسائیوں یا دھریا لوگوں کی نسل سے کتنے نیک لوگ پیدا ھوں گے اللہ علم رکھتا ھے -
ہم جلدی چاھتے ہیں ھر کام ھر فیصلہ میں ۔ اگر اللہ نہیں کرتا تو ہم ھر کام ہر فیصلہ ھر سزا خود دینا چاھتے ہیں
اگر اللہ ہمارے ہر عمل کی سزا فوراً اور سخت دے تو شاید ہم جی نہ پائیں اور سہہ نہ پائیں - جب ھماری اپنی باری آتی ھے تو ھم مان لیتے ہیں اللہ بہت رحمان ھے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ۔ کیا اللہ صرف ھم سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ھے اور لوگوں سے نہیں ؟؟؟ ماں کے تو دس بچے بھی ھوں وہ سب سے محبت کرتی ہے چاھے کوئ معذور ہو ۔ چور ہو یا ڈاکو ۔ اپنے آوارہ بیٹے کے لیے زیادہ تڑپتی ہے آخری سانس تک دعا کرتیہے اللہ کے حضور روتی کہ اس کے بچے کو ھدایت دے ، بد دعا نہیں کرتی مارتی نہیں ۔ اگر اس کا آوارہ بچہ سدھر جاتا ہے تو ہر زیادتی کو بھول کر سینے سے لگا لگتی ہے ۔ اللہ رب العالمین ہے سب کا مالک اور خالق ہے
میں جانتی ہوں میرا رب سب کا پیدا کرنے والا ھے رزق دینے والا ھے حفاظت کرنے والا ہے ۔ جب کوئ دنیا پانے کے لیے محنت کرتا ہے تو وہ اسے دنیا عطا کرتا ہے جب کوئ آخرت کے لیے محنت کرتے ہے تو اسے اجر دیتا ھے ۔
میرے اللہ حافظ نہ کہنے سے انھیں نہ ھی تباہ کرے گا ۔ میرے سلام نہ کرنے سے ان کی سلامتی کو کوئ خطرہ نہیں ھوگا -
میں اتنا ضرور کرتی ہوں میں سب کو بتاتی ہوں میرا ایمان کیا ہے میرا اللہ پہ کیسا یقین ہے ۔ میں کسی سے نفرت نہیں کرتی
یہ تصور کرنا بھی شرک سمجھتی ہوں ھندوؤں کا خالق بھگوان ہے ان کا مالک ان کا رازق ان کی حفاظت کرنے والا کوئ بھگوان یا گاڈ ہے
میں اسے رب کہوں مولا اللہ یا خدا وہ جانتا ہے میں اس سے بات کر رھی ہوں کسی اور کو نہیں پکار رھی ۔ وہ دل کی آواز بھی سن لیتا ہے جب کوئ بات سوچتی ہوں وہ پھر بھی جان لیتا ہے وہ میرا رب ہے
Tuesday, December 23, 2014
غیر اسلامی
پشاور کے دلخراش واقعے کے بعد مذمتی بیانات جاری ھوئے حکومتی سطح پہ ھو یا عام لوگوں کی طرف سے - پھر لوگوں نے نیا کام شروع کیا ہر بڑے شہر ھر بڑے چوک میں مل کر موم بتیاں جلانے لگے ۔ یہ کیا بات ھوئ ۔ اس بارے میں بہت سے لوگوں نےسوشل میڈیا پہ لکھا اور لکھ بھی رھے ھیں ۔ موم بتیاں جلانا کوئ اسلامی فعل نہیں یہ تو عیسائی چرچ میں جلاتے ھیں -بھئ اسلامی کام کریں آخر کیا آپ مسلمان نہیں ۔ عیسائیوں اور ھندوؤں کی نقل کیوں کرتے ھیں - یہ کیوں بھول جاتے ھیں ھم کس کی امت ھیں - ھمارا ھر کام گواہ ھے کہ ھم مسلمان ھیں ۔ ھم ھر کام کرنے سے پہلے سوچتے ھیں اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ھے
مسلمانوں والے کام جیسے آپ پاکستان میں دیکھتے ھیں ۔ مرنے والوں کا مزار بنایا جاتا ھے پھر اس پہ دئیے جلائے جاتے ھیں ۔ یہ خالص مشرقی روایت ھے ۔ دئیے مشرق کی ایجاد ھے ۔ اگر بتی جلائیں ۔ یہ ھمارے درباروں مزاروں پہ جلائ جاتی ھیں ۔ اس سے جنازے کی فیلنگ بھی آتی ھے - جیسے میت قریب ھی ھو
ایسے بھی کیا جا سکتا ھے مرنے والے معصوم بچوں کی یاد میں ایک مزار بنائیں ۔ دن رات پھولوں کی اور ریشمی اور قیمتی چادریں چڑھائیں ۔ویسے آج تک پتا نہیں چل سکامزاروں پہ روزانہ چڑھائ جانی والی چادریں آخر جاتی کہاں ھیں ۔ خیر یہ دوسرا موضوع ھے ۔ واپس مزار پہ چلیں ۔ مزار بنے گا تو لوگ منتیں مرادیں مانگنے آئیں گے ۔ قوالی بھی ھو سکتی ۔ دھمال بھی ڈالے جا سکتے ھیں ۔ مزار کی چار دیواری میں موجود کسی درخت پہ منت کے لیے دھاگے اور کپڑے بھی باندھے جا سکتے ھیں ۔ تعویذ بھی دبائے جا سکتے ھیں ۔ چرس ھیروئین کا کاروبار بھی ھو سکتا ھے ۔ چلہ بھی کاٹا جا سکتا ھے ۔ موم بتی نہیں جلائ جا سکتی ۔ یہ ایک غیر اسلامی فعل ھے ۔
یاد رھے ھم اسلامی ملک میں رہتے ھیں یہاں قاتل کو قاتل نہیں کہتے جواز پیش کیے جا سکتے ھیں ۔ ڈرون حملوں میں ہلاک ھونے والوں کے وارثین یہ خود کش حملے کر رھے ھیں ۔ اور خود کش حملوں میں ہلاک والوں کے وارث ؟؟؟؟ وہ انسان نہیں ۔۔۔ خودکش حملوں میں اب تک کتنے بے گناہ لوگ ہلاک ھو چکے ھیں ؟؟؟ ان کے وارثین موم بتیاں جلائیں تو غیر اسلامی
کیا کریں یہ لوگ ؟؟؟ سڑکیں بلاک کریِں ٹائر جلائیں -سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچائیں ؟؟؟ جلا ؤ گھیراؤ کریں ؟؟؟ پتلے بنا بنا کر جلائیں ۔ وال چاکنگ کریں ؟؟ شہر بند کر دیں ؟ پاکستان میں یہ سب احتجاج کے لیے کیا جاتا ھے ۔ مگر یہ سب لوگ ایسا کچھ نہیں کر رھے ۔ اور ان سب پہ اعتراض وہی لوگ کر رھے ھیں ۔ جو اس واقعے کی کھل کر مذمت نہیں کر رھے ۔ درجنوں بے گناہ بچوں کا قتل غیر اسلامی نظر نہیں آرھا ۔ خود کش حملے غیر اسلامی نہیں ۔ جو اسلام کے نام پہ کیے جا رھے ھیں ۔ موم بتیاں اسلام کے نام پہ نہیں جلائ جا رھی -
اظہار یکجہتی کے لیے اگر یہ کیا جا رھا تو اس پہ اتنا شور مچانے کی ضرورت نہیں اس سے اسلام کو کوئ نقصان نہیں ھوگا کیونکہ یہ اسلام کے نام پہ نہیں کیا جا رھا صرف انسانیت کے نام پہ کیا جا رھا ھے
Saturday, August 3, 2013
رمضان کہانی
رمضان کے شروع ھوتا ھے چاند پہ جھگڑے سے اس بار پاکستان بھر میں ایک ھی دن رمضان شروع ھوا ھو خوش آئند بات ھے
رمضان شروع ھوتے ھی شیطان قید کر دئیے جاتے ھیں مگر اس چیلے دنیا میں آزاد گھومتے رھتے ھیں -
رمضان شروع ھوتے ھی شیطان کو قید کر دئیے جاتے ھیں مگر مہناگئ کا جن کھل کے سامنے آجاتا ھے -
رمضان میں سب سے بڑی زیادہ فکر افطاری کی ھوتی ھے جیسے پکوڑوں سموسوں سے روزہ کھولنا واجب ھے - کھانا دو وقت کھایا جاتا ھے مگر کچن کا بجٹ دگنا ھو جاتا ھے
سب سے اچھی بات یہ ھے رمضان میں مساجد بھری ھوئ نظر آتی ھیں رمضان میں اتنی رحمتیں اور برکتیں جمع کر لیتے ھیں جو سال بھر کے لیے کافی ھوتی ھیں
رمضان میں روٹین چینج ھو جاتی ھے ۔
افطار پارٹیاں بزنس اور سیاسی رابطوں کے بڑھانے کا زریعہ بنتی ھیں - لوگ افطار پارٹیز کے انتظار میں رھتے ھیں - بہت سی تنطیمیں اور لوگ غرباء کی افطاری کرواتے ھیں ۔ صدقات دل کھول کر دئیے جاتے ھیں
دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف جہاد کرتے نظر آرھے ھیں دشمن تو مارتے ھی ھیں اپنے بھی مار رھے ھیں
اس بار سحر اور افطاری ٹی وی کے ساتھ ھوتی ھے - کھیل کود میں کئ گھنٹے گزر جاتے ھیں سب ٹی وی چینلز اس کام میں ثابت کرنے کی کوشش کر رھے ھیں وہ سب سے کامیاب جا رھے ھیں ریٹنگ کی ڈور لگی ھوئ ھے
سوشل میڈیا پہ کہا جا رھا ھے رمضان میں شیطان ٹی وی میں قید کر دئیے جاتے ھیں
رمضان کے دن تھوڑے رہ گئے ھیں شیطان آزاد ھو جائے گا اور پھر سب کچھ نارمل ھو جائے گا سر سے ڈوپٹہ پھر گلے میں آجائے گا نعت کی جگہ گانے چلیں گے سحری اور افطاری کی نشریات پیش کرنے والے کسی اور تماشے کے ساتھ سامنے آجائیں گے ان کی روزی روٹی کا یہی زریعہ ھے
رمضان شروع ھوتے ھی شیطان قید کر دئیے جاتے ھیں مگر اس چیلے دنیا میں آزاد گھومتے رھتے ھیں -
رمضان شروع ھوتے ھی شیطان کو قید کر دئیے جاتے ھیں مگر مہناگئ کا جن کھل کے سامنے آجاتا ھے -
رمضان میں سب سے بڑی زیادہ فکر افطاری کی ھوتی ھے جیسے پکوڑوں سموسوں سے روزہ کھولنا واجب ھے - کھانا دو وقت کھایا جاتا ھے مگر کچن کا بجٹ دگنا ھو جاتا ھے
سب سے اچھی بات یہ ھے رمضان میں مساجد بھری ھوئ نظر آتی ھیں رمضان میں اتنی رحمتیں اور برکتیں جمع کر لیتے ھیں جو سال بھر کے لیے کافی ھوتی ھیں
رمضان میں روٹین چینج ھو جاتی ھے ۔
افطار پارٹیاں بزنس اور سیاسی رابطوں کے بڑھانے کا زریعہ بنتی ھیں - لوگ افطار پارٹیز کے انتظار میں رھتے ھیں - بہت سی تنطیمیں اور لوگ غرباء کی افطاری کرواتے ھیں ۔ صدقات دل کھول کر دئیے جاتے ھیں
دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف جہاد کرتے نظر آرھے ھیں دشمن تو مارتے ھی ھیں اپنے بھی مار رھے ھیں
اس بار سحر اور افطاری ٹی وی کے ساتھ ھوتی ھے - کھیل کود میں کئ گھنٹے گزر جاتے ھیں سب ٹی وی چینلز اس کام میں ثابت کرنے کی کوشش کر رھے ھیں وہ سب سے کامیاب جا رھے ھیں ریٹنگ کی ڈور لگی ھوئ ھے
سوشل میڈیا پہ کہا جا رھا ھے رمضان میں شیطان ٹی وی میں قید کر دئیے جاتے ھیں
رمضان کے دن تھوڑے رہ گئے ھیں شیطان آزاد ھو جائے گا اور پھر سب کچھ نارمل ھو جائے گا سر سے ڈوپٹہ پھر گلے میں آجائے گا نعت کی جگہ گانے چلیں گے سحری اور افطاری کی نشریات پیش کرنے والے کسی اور تماشے کے ساتھ سامنے آجائیں گے ان کی روزی روٹی کا یہی زریعہ ھے
Wednesday, July 17, 2013
میں مسلمان ھوں
پیدائش کے ابتدائ لمحوں میں میرے کان میں آذان دی گئ دونوں کانوں کے درمیان دماغ کو اسلام کا پیغام پہنچایا گیا اور بتایا گیا اللہ سب سے بڑا ھے اور آؤ فلاح کی طرف پیدائش کے ساتھ ھی میں مسلمان ھو چکی تھی
جب بولنا شروع کیا تو قرآن کی تعلیم دی جانے لگی میں ان پڑھے جانے والے الفاظ کا مہفوم نہیں جانتی تھی بس یہ جانتی تھی اسے پڑھنا جیسے میرے ساتھ کئ بچے پڑھ رھے زور زور سے ہل ہل کر میری کوشش ھوتی تھی میں سب سے بلند آواز میں پڑھوں اگر میری دوست نے دو صفحے پڑھے ھیں تو میں چار پڑھوں اسی مقابلے بازی میں میں نے قرآن پڑھ لیا
تھوڑی اور بڑی ھوئ تو اسکول جانے لگی اسلامیات میں ھمیں پڑھایا جاتا غیبت گناہ ھے ایسے ھی ناپسندیدہ ھے جیسے اپنے مسلمان بھائ کا گوشت کھانا - جھوٹ کے بارے میں رسولِ کریم نے فرمایا اس بچو تو ھر گناہ سے بچ جاؤ گے ۔ دھوکہ مت دو ۔ بے ایمانی نہ کرو ۔ ناپ تول پورا کیا کرو بہت سی قومیں اس لیے تباہ ھوئیں کہ وہ ناپ تول پورا نہیں کرتی تھیں ۔ اللہ سے ڈرو ۔ کسی کو کمتر مت جانو ۔ کمزور پہ ظلم مت کرو ۔ مزدور کو مزودری اس کا پسینہ خشک ھونے سے پہلے دو کسی کا حق مت مارو ۔ بڑی ھوئ تو احساس ھوا یہ کتابی اسلام ھے جیسے پڑھ کر جس کے بارے میں لکھ کر خوشی ھوتی ھے عملی زندگی میں اس کا کوئ عمل دخل نہیں ۔
ھماری مساجد سے پانچ وقت اللہ اکبر آوازیں بلند ھوتی ھیں ھم اپنے کام چھوڑ مسجد جاتے ھیں جوتے اتار کر اسلام پہن لیتے ھیں اپنے وجود کو وھیں جوتے کے پاس چھوڑ مسجد میں داخل ھو جاتے ھیں نماز پڑھ کر اسلام کو وھیں مسجد میں چھوڑ اپنا وجود پہن کر لوٹ آتے ھیں اپنا کام وھی سے شروع کرتے ھیں جہاں نماز پڑھنے کے لیے چھوڑ کر گئے تھے ۔ جھوٹ بولتے ھیں جھوٹی گواھی دیتے ھیں دو نمبر مال پیچتے ھیں غریب ملازموں پہ ظلم کرتے ھیں پھر اگلی نماز کا وقت ھو جاتا ھے پھر اسی طرح مسجد میں داخل ھوتے ھیں کبھی کبھی عمریں بیت جاتی ھیں اپنے وجود کو مسجد میں ساتھ لے کر ھی نہیں جاتے وہ وھیں جوتوں کے پاس سڑتا رھتا ھے
بچپن میں میں بزرگوں کی بہت عزت کرتی تھی وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ھوا عمر بڑھ جانے سے ھر انسان بوڑھا تو ھو جاتا ھے مگر بزرگ نہیں بنتا ۔ بزرگ وہ کہلاتا ھے جو زندگی کو سمجھتا ھے سیکھتا ھے رشتوں کو جوڑتا ھے عاجزی اختیار کرتا ھے رحمت بن جاتا ھے ۔ کچھ ایسے بھی ھیں جو نماز میں اللہ اکبر کہتے ھیں اور سجدے سے سر اٹھاتے ھی فرعون بن جاتے ھیں
روزہ اللہ کے لیے ھیں وھی اس کا اجر دیتا ھے ۔ بیماری میں سفر میں اللہ نے چھوٹ دی ھوئ ھے ۔ جس کام کی اللہ نے اجازت دی ھو اس میں دخل دینے کا حق انسان کو کس نے دیا ؟؟ ایک جاننے والی شمالی علاقہ جات میں سفر کر رھی تھی روزہ نہیں رکھنا تھا گلا خشک ھو رھا تھا مگر پیاسی رھیں کیونکہ بس میں سب کٹر مسلمان تھے ان کے سامنے کھانے پینے پہ ردِ عمل ایسا ھوتا ھے جیسے ان کے منہ میں زبردستی پانی ڈال کر ان کا روزہ توڑا جا رھا ھو
اللہ رحمن ھے رحم کرتا ھے رحم کرنے والوں کو پسند کرتا ھے اسلام ایک سادہ مذہب ھے آسانی مہیا کرتا ھے - پھر اسے ایک مشکل مذھب کیوں بنایا جا رھا ھے ۔ یہ آر یا پار والا رویہ کیوں ۔ اسلام ایک مکمل ضابطہء حیات ھے زندگی کے ھر قدم پہ اسلام کہاں ھوتا ھے ؟؟ کتنا اچھا ھو دو نمازوں کے درمیانی وقت میں بھی ھم مسلمان رھیں - رمضان ختم ھونے کے بعد پورا سال اس کا اثر باقی رھے - آج کل ھر ٹی وی چینل مسلمان بنا ھوا ھے گنتی کے چند روز ھیں پھر سب اپنے اصل میں لوٹ ائیں گے - شیطان کے ساتھ ساتھ اور بہت سے لوگ بھی آزادی کا سانس لیتے ھیں
Tuesday, July 9, 2013
چاند پہ جھگڑا
چاند آسمان کا ھو یا زمین کا صدیوں سے لوگ جھگڑتے آرھے ھیں ۔ اور یہ جھگڑے ختم ھوتے نظر نہیں آرھے - چاند چاند
میں فرق ھوتا ھے ۔ زمینی چاند ھر ایک کا الگ ھوتا ھے ۔ آسمان کے چاند کو بھی ھر کوئ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ھے وہ ان کا ھے ۔ آسمان پہ ایک چاند ھے اور زمین پہ لاکھوں ۔ کوئ کسی کا چاند ھے اور کسی کو کئ لوگ چاند کہتے ھیں ۔ کوئ صرف اپنی ماں کا چاند ھوتا ھے ۔ بیٹے یا بیٹی کو جو چاند لگتا ھے ماں کو اس میں کئ داغ نظر آتے ھیں چاند پہ ویسے بھی داغ ھوتے ھیں ۔ کچھ لوگوں کی نظر کافی تیز ھوتی ھے وہ ایک وقت میں کئ کئ چاند دریافت کر لیتے ھیں ۔ زمین کے سوا باقی شمسی سیاروں پہ ایک سے زائد چاند ھیں دریافت کرنے والے زمین پہ بھی بہت سے چاند دریافت کر لیتے ھیں
ابھی تو مسلہ رمضان کے چاند کا چل رھا ھے یہ مسلہ کوئ نیا نہیں برسوں سے چل رھا ھے ۔ یورپ کے کئ ممالک میں تین تین عید ھوتی ھیں ۔ کچھ عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے عید عرب کے ساتھ کرتے ھیں ۔ کچھ مما لک کے لوگ اپنے آبائ دیس کے ساتھ عید کرتے ھیں اور کچھ مقامی ملک میں نکلنے والے چاند کے مطابق ۔ اور پاکستانی اپنے اپنے مسلک کے فیصلے کے مطابق وہ عرب کے ساتھ عید کرنا چاھتے ھیں یا مقامی ملک کے چاند کے مطابق -
سب سے بڑا مسلہ یہاں طالبعلموں کو ھوتا ھے حکومت کی طرف سے فیصلہ کی گیا تھا عید کے دن مسلمان طالبعلموں کو چھٹی ھوگی باقی کلاس میں کوئ نیا سبق نہیں پڑھایا جائے گا کوئ ٹیسٹ نہیں ھوگا سب مسلمان کسی ایک دن کا فیصلہ کر کے بتائیں اور آج تک فیصلہ نہیں ھو سکا - جن اسکولوں میں ترک مسلمانوں کی تعداد زیادہ ھے اس لیے عید کی چھٹی اسی دن ھوتی ھے جس دن ترک مسلم عید کرتے ھیں ترک عرب کے ساتھ عید کرتے ھیں اور ھماری عید ایک دن بعد ھوتی ھے محکمہ فلکیات کے مطابق
- ایک وقت میں سورج پوری دنیا میں نظر نہیں آتا تو کیا چاند ایک وقت میں ساری دنیا میں نظر آ سکتا ھے ؟؟؟
جنگ فورم لندن میں بحث ھو رھی تھی کس طرح عید ایک دن منائ جا سکتی ھے ایک صاحب نے یہ تجویز پیش کی محکمہء فلکیات سے پوچھ لیا جائے کیونکہ یہاں اکثر بادل رھتے ھیں ہلال کا چاند نظر کم ھی آتا ھے ۔ ایک مولانا صاحب نے جواب دیا امضان اور عید کے چاند کو آنکھ سے دیکھنے کا حکم ھے ھم اپنی شریعت نہیں چھوڑ سکتے -
ماہرینِ فلکیات پیشگوئ کرتے ھیں چاند یا سورج گرہن دو ماہ بعد لگے گا اور کس علاقے میں کتنی دیر کے لیے نظر آئے پورے چاند یا سورج کو گرہن لگے گا یا کتنے فیصد متاثر ھوگا ھم مان لیتے ھیں ویسا ھوتا بھی ھے اور وہ پیشگوئ صحیح ثابت ھوتی ھے ۔
نماز دن میں پانچ بار دنیا بھر میں پڑھی جاتی ھے اس کا وقت سورج کے طلوّع و غروب کے مختلف اوقات کے حساب سے ھوتا ھے کتنی مساجد میں مولوی آنکھ سے سورج کا جائزہ لیتا ھے پھر آذان دیتا ھے ؟ آذان اور نماز کے اوقات کار سردی اور گرمی کے موسم میں دن نکلنے کے مطابق گھڑی کے حساب سے طے کر دئیے جاتے ھیں چاھے سارا دن بادل رھیں سورج نکلے یا نہ نکلے لوگ گھڑی کے وقت کے مطابق نماز پڑھ لیتے ھیں - کیا کوئ اسلامی یا حلال گھڑی ایجاد کی جا چکی ھے ؟ جدید ایجاد کے ذریعے نماز تو ھو سکتی ھے مگر عید کا چاند نہ جی نہ اس کی بات کچھ اور ھے عید کے چاند کا اعلان رویتِ ہلال کمیٹی ھی کرے گی ۔ کیا کوئ حدیث ایسی ھے جس میں حکم ھو مستقبل میں اگر کوئ ایجاد ھوں تو اس سے انکار کیا جائے ؟ میں یہ سب کمپیوٹر پہ لکھ رھی ھوں آپ انٹر نیٹ کے زریعے پڑھ رھے ھیں ۔ یہ سائنسی ایجادات ھماری زندگی کا حصہ بن چکی ھیں ۔ شریعت کا جو حصہ ھم چاھتے ھیں پکڑ لیتے ھیں جو چاھے چھوڑ دیتے ھیں ھم دم پکڑ کر بیٹھے ھوئے ھیں اور ھاتھی کو نظر انداز کر رھے ھیں
رویت پہ بحث کرنے کے لیے درجن بھر علماء اکرام اکٹھے ھوئے تھے جو ایک چاند پہ بحث کر رھے تھے اور میں ان کے حلئے دیکھ کو سوچ رھی تھی کیا امت ایک چاند پہ متفق ھو رھی ھے جن کے علماء اکرام نے الگ الگ اسٹائل کے ٹوپیاں قلے اور مختلف پگڑیاں پہنی ھوئیں ھیں جو دیکھنے میں ایک دوسرے سے الگ ھیں جنھوں نے کوشش کی ان کی الگ پہچان ھو ان کے حلئے سے پتا چل جاتا ھے ان کا مسلک کیا ھے ۔ کیا ھم ایک ھو سکتے ھیں - شلوار ٹخھنوں نے کتنی اوپر یا نیچے ھونی چائیے ھاتھ کھول کر نماز پڑھنی چاھئیے یا باندھ کر ۔ ھاتھ کہاں اور کیسے باندھنے چاھئیے آج تک فیصلہ نہیں کر سکے سب خود کو درست مانتے ھیں اور دوسرے کا غلط سمجھتے ھیں اور ثابر کرنے کی کوشش کرتے ھیں
پورے ملک میں ایک ھی دن عید منانے کے لیے میٹنگ کا انجام کچھ اندازہ ھے کیا ھوا ھوگا ؟؟ جی کوئ متفقہ فیصلہ نہیں ھو سکا ۔ سب کے حلئے کی طرح سب کی سوچ بھی الگ تھی ۔ تو عید کا چاند کیسے ایک ھو سکتا ھے ۔ ھم زمین پہ رھتے ھیں اور چاند پہ جھگڑتے ھیں اگر چاند پہ پہنچ گئے تو وہاں بھی جھگڑیں گے ضرور ----
Tuesday, December 25, 2012
گہنگار
بس جی کب سے بیٹھی کانپ رھی ھوں
بڑا گناہ کر بیٹھی پتا ھی نہیں تھا
اسلام کی حقیقی تعلیم کا تو اب چل رھا ھے
پتا ھی نہیں تھا یہ حرام کام ھے
یہ تو ابھی پڑھا میں نے
کرسمس کی مبارک باد دینا حرام ھے
ایمان کے لیے خطرہ ھے
میں نے پتا نہیں کتنے لوگوں کو کرسمس کی مبارک باد دے دی
جو مجھے عید کی مبارک باد دیتے ھیں رمضان کی مبارک دیتے ھین جو کافر ھے
میرا بیچارا ایمان ابھی تک کانپ رھا ھے
حرام تو حرام ھوتا ھے جی
اور ایمان سے بڑی کیا چیز ھو تی ھے
کوئ نہیں جی
ایمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
ان کافروں کے ملک میں رھتے ھوئے بہت کچھ دیکھتی ھوں وہ سب جائز ھے حلال ھے
ان سے بھیک لینا
اپنی غیرت بیچ دینا عوام کا سودا کرنا جائز ھے
اسلامی ممالک کے لوگوں عیاشی کرنے کے لیے ان کافر ممالک میں آنا
شراب پینا
گرل فرینڈز بنانا سب جائز ھے
اپنے اسلامی ملک میں بیٹھ کر
دھوکہ بے ایمانی کرنا
یتیموں غریبوں کا حق کھانا
بے گناہ کو قتل کرنا
زکات کے پیسے کھا جانا حرام کی کمائ سے حج کرنا کسی بے گناہ کو سزا دلانا - رشوت کھانا - جھوٹ بولنا - بہتان لگانا- قرآن کو اٹھا کر جھوٹی گواھی دینا
یہ سب جائز اور حلال ھے جی
ھم تو جدی پشتی امتی ھے ھم تو بخشے بخشائے ھیں ان چھوٹے موٹے گناھوں کو تو اللہ ویسے ھی بخش دے گا
اگر کسی کو کرسمس کی مبارک باد دے دی تو
توبہ میری توبہ ایمان کا خطرہ ھے جی
آج کل تو ایمان سوئ کی نوک پہ رکھا ھوا زرا سی بات سے ڈولنے لگتا ھے خطرے میں پڑ جاتا ھے
میں تو سمجھتی تھی دنیا میں سب سے مضبوط چیز ایمان ھے کسی چٹان کی طرح اٹل اللہ پہ ایمان انسان کو مضبوط کرتا ھے میں نہیں جانتی تھی ایمان کسی موم کا بنا ھوا ھوتا ھے جو زرا سی گرمی سے پگھل سکتا ھے کسی مٹی کے بنے ھوئے کچے گھر جیسا جو زرا سی بارش میں زمین بوس ھو جاتا ھے
میں تو مانتی تھی اللہ سب کا رب ھے
رسول کریم رحمت اللعالمین ھیں
ایمان اللہ کو ماننا ھی نہیں اللہ کی ماننا بھی ھے
قرآن کو اللہ کی آخری اور کامل کتاب ماننا ھی نہیں عمل کرنا بھی ھے
میری آنکھیں تو آج کل کے کچھ علماء اکرام کے فتوؤں نے کھولی ھے
حرام حلال کی پہنچان تو اب ھوئ ھے
ھیلو کہنا بھی حرام ھے
میری آنکھیں تو اب کھولی ھیں
اللہ سے محبت ھے تو ھمیں تنگ نظر ھونا چاھیے اس کے پیدا کیے ھوئے انسانوں کو جینے کے قابل بھی نہیں سمجھنا چاھیے
اگر سچے مسلمان ھیں تو باقی سب کو کافر قابل ِ نفرت سمجھنا چاھیے
ھمارے مذھبی جذبات ھیں جو کسی بھی حالت میں مجروع نہیں ھونے چاھئیے سب کو اس کا خیال رکھنا چاھئیے چاھے کوئ کافر ھو یا دہریہ
اور دوسرے مذاھب کے انسان ؟؟؟
وہ اللہ کی مخلوق نہیں
ان کے مذھبی جذبات نہیں
یہ کائنات ھمارے لیے بنی ھے
جنت کے حق دار ھم ھیں
ھم کچھ بھی کریں یا کچھ نہ کریں دوزخ ھم پہ حرام ھے
مذھب انسان کو انسان بناتا ھے
انسانیت کی سمجھ عطا کرتا ھے
جو اللہ کے جتنا قریب ھوتا ھے وہ اتنا حلیم ھو جاتا ھے
اللہ تو حلیم ھے وہ اپنے بندوں کو معاف کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ھے
سزا دینے کے نہیں -
بس جی اللہ سب گناہ معاف کر سکتا ھے
کسی کو بھولے سے بھی کرسمس کی مبارک باد نہ دیں
گہنگار ھو سکتے ھیں جنت کے دروازے بند ھو سکتے ھیں
Subscribe to:
Posts (Atom)









.jpg)
.jpg)

.jpg)






