Showing posts with label میری شاعری. Show all posts
Showing posts with label میری شاعری. Show all posts

Wednesday, September 3, 2014

تم بھی کتنے پاگل ھو

تم بھی کتنے پاگل ھو
بے ضمیر لوگوں سے
امیدیں رکھتے ھو کیوں امیدیں رکھتے ھو
ایمان بیچ دیتے ھیں
دنیا کو پانے میں
ضمیر بیچ دیتے ھیں
فائدہ اٹھانے کو
نام اللہ کا لے کر
فرعون بن       جاتے ھیں
تم بھی کتنے پاگل ھو
چور اور لٹیروں سے
انصاف کی توقع ھے
کیوں یہ سمجھتے ھو
کیا تم سمجھتے ھو
 جب بھی یہ مل کر بیٹھے گے
تمہارا یہ سو چیں گے
تم بھی کتنے پاگل ھو
خاک پہ رھتے ھو
وہ محلوں کے باسی ھیں
تم کو وہ اپنے برابر لائیں گے ؟
تم یہ سمجھتے ھو
کیوں یہ سمجھتے ھو
پاؤں کی جوتی کو سر پہ بیٹھائیں گے ؟
تم کو تمہارا حق یہ دلائیں گے ؟؟
تم بھی کتنے پاگل ھو
تم بھی کیسے پاگل ھو
بار بار تم
دھوکےکھاتے ھو
پھر بھی ھمیشہ  تم
بے وقوف بن جاتے ھو
تم انھیں  کیا سمجھتے ھو
وہ تمہیں سمجھ پائیں گے ؟؟
تمہارے مسلے یہ سلجھائیں گے ؟؟؟
نجانے تم نے کیا کیا سپنے سجائیں ھیں
خاک پہ رہ کر کتنے محل بنائیں ھیں
تم کیوں نہیں سمجھتے
سامنے یہ تمہارے انسان  بن کر بیٹھے ھیں
 فرعون ھیں زمانے کے
تم یہ نہیں سمجھتے
کیوں نہیں سمجھتے
تم بھی کتنے پاگل ھو
تم بھی کتنے پاگل ھو


سعدیہ سحر 

Wednesday, September 18, 2013

اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے


اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس بے حس دنیا میں
جہاں شملے اونچے رکھنے کے لیے
بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا ھے
جہاں بھائیوں کے گناہوں کا کفارہ
بہنوں کو ادا کرنا پڑتا ھے
جہاں زندہ رھنے کی خواھش میں مرنا پڑتا ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس بے درد دنیا میں
جہاں جائیداد کے بٹوارے کے خوف سے
بہنوں کے خوابوں کے ٹکڑے کر دیے جاتے ھیں
بیٹیوں کو بیاھنے کے خواب دیکھنے والی ماؤں کے سامنے
ان بیٹیوں کو خاموشی سے قرآن سے بیاہ دیا جاتا ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس دنیا میں جہاں قدم قدم پہ امتحان ھے
جہاں اپنی ذات کے اظہار ھے کی خواھش کے بدے
اس کی ذات اس کی ھستی کو فنا کر دیا جاتا ھے
جہاں اپنی آرزوؤں کے اظہار پہ
اپنے ھاتھوں سے قتل کرنے پہ
باپ اور غیرت مند بھائیوں کی ناک اونچی ھوتی ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس روایتوں کی قیدی دنیا میں
اے میری خوش فہم مائیں
کس آس پہ بیٹی کا نام سرداراں رکھا
نام رکھنے سے قسمت نہیں بدلتی
شہزادی کہنے سے عمر بھر کی غلامی سے نجات نہیں ملتی
کیوں جنم دیا مجھے میری بے بس مائیں
تیرے قدموں تلے تو صدیوں پہلے جنت لکھی گئ تھی
پھر اس جنت کو قدموں تلے کیوں روندا جاتا ھے
خوش بخت تھی عرب کی بیٹیاں
جو ایک بار مرتی تھیں
یہاں تو آج بھی ایک ایک سانس کے بدلے
ھزار بار زندہ درگور ھونا پڑتا ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس دنیا میں جہاں قبروں کو پوجا جاتا ھے
اور زندہ لوگوں سے زندہ رھنے کا حق چھین لیا جاتا ھے
جہاں روایتوں کو زندہ رکھنے کے لیے
لوگوں کو مرنا پڑتا ھے
اے میری بے بس اور مجبور مائیں
کیوں جنم دیا مجھے
اے مائیں
sadia saher 2009

Saturday, November 17, 2012

وہ معصوم دھشت گرد دھشت سے مر گیا





اسے ماں نے بڑی منتوں مرادوں سے مانگا تھا
میرا چاند میرا پیارا کہہ کر پکارا تھا
وہ ننھا فرشتہ سب کی آنکھوں کا تارا تھا
جس کو دیکھ کر ھزار خواب
ماں کی آنکھوں میں جاگے تھے
کرے گا سب کا نام روشن
ملک و ملت کے لیے کئ کام کرنے ھیں
ھوگا امن کا پاسباں
بنے گا سچا مسلم
ھر روز نئے خواب دیکھنے والی
فلسطینی ماں بھول گئ تھی
ان کو سپنے دیکھنے کا کوئ حق نہیں
ان سے پہلے بھی لوگوں نے کئ سپنے سجائے تھے
مگر مقدر سپنے دیکھنے سے نہیں بدلتا
کتنی گودیں سونی ھوگئیں
کتنی سہاگنوں کی آنکھوں میں خزاں کاموسم ٹھہر گیا
مگر اس کی ماں
خون بھری زمین پہ پھول کھلانے کے خواب دیکھتی تھی
روتی آنکھوں کو ھنسانے کے خواب دیکھتی تھی
مگر دنیا کہتی تھی
وہ خطرناک لوگ ھیں
ان بے بس لوگوں سے
دنیا کے امن کو خطرہ ھے
پھر اٹھے امن کے پاسباں
دنیا سے دھشت مٹانے کو
کتنی طاقت سے
کتنے راکٹ برسے
اور
دھماکوں کے شور میں
وہ معصوم دھشت گرد دھشت سے مر گیا

----------------------------
یہ تصویر دیکھ کر کچھ عرصہ پہلے لکھی نظم یاد آگئ  سعدیہ سحر

Thursday, March 8, 2012

یہ حوا کی بیٹیاں

میری ایک نظم پاکستان کی ان عورتوں کے نام جن کو اسلام تو ھر حق دیتا ھے مگر راوایات میں الجھے ھوئے مسلمان ان کے حق دینے پہ راضی نہیں