Saturday, April 20, 2013

میری پسند

پتا نہیں کتنی بار سنا ھوا ھے کچھ گانے دو چار دن اچھے لگتے ھیں پھر دل سے اتر جاتے ھیں مگر یہ بار پہلی بار جیسا ھی اچھا لگتا ھے



زندگی گلزار ھے ہا کوئ خار ھے ۔۔۔ ھر کسی کا اپنا اپنا خیال ھے ۔ دھوپ چھاؤں کا کھیل ھے زندگی ۔



Sunday, April 7, 2013

میری زندگی تو فراق ہے


کافی عرصے کے بعد سنا ۔۔ سوچا اپنے بلاگ پہ شئیر کر دوں




میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی

ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ہو کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچئے دار پر، جو نہیں کوئی تو ہم ہی سہی

سرِ طور ہو سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی

نہ ہو ان پہ میرا جو بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انھی کا تھا میں انھی کا ہوں،وہ میرے نہیں تو نہیں سہی

مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے، میری آرزو کا بھرم رہے
تیری انجمن میں اگر نہیں، تیری انجمن سے قریں سہی

تیرا در تو ہمکو نہ مل سکا، تیری رہگزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی

میری زندگی کا نصیب ہے، نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اسکا غم تو نصیب ہے، وہ اگر نہیں تو نہیں سہی

جو ہو فیصلہ وہ سنائیے، اسے حشر پہ نہ اٹھایئے
جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی

اسے دیکھنے کی جو لو لگی، تو نصیر دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہو، وہ ہزار پردہ نشیں سہی

شاعر نصیر الدین نصیر

Saturday, April 6, 2013

ظاہر






چینل بدلتے بدلتے ایک لمحے کے لیے ایک چہرے کو دیکھ کر رک گئ ۔ چہرہ کیا تھا جیسے کوئ خلائ مخلوق ھو ۔ جھلسا ھوا چہرہ جس کے نقوش بگڑ چکے تھے چہرے پہ کوئ بال نہیں تھے آنکھوں کے دائروں میں  پتلیاں حرکت کرتی ھوئ نظر آرھی تھی عمر کیا تھی کچھ اندازہ نہیں ھو رھا تھا

چہرہ دیکھ کر عجیب سا محسوس ھو رھا تھا دل نہیں چاہ رھا تھا کہ مذید دیکھوں چینل بدلنے لگی تو اس نے اپنے خوابوں اپنی خواہشات کی بات شروع کر دی میں چینل بدلتے بدلتے حیرانی سے رک گئ کیا اس کے بھی خواب ھیں یہ بھی جینا چاھتا ھے

وہ ڈرائیونگ کر رھا تھا ایکسڈنٹ ھوا گاڑی میں آگ لگ گئ مدد آنے میں کچھ منٹ لگے مگر انسانی جلد جھلسے میں کتنی دیر لگتی ھے اس کی زندگی تو بچ گئ مگر چہرہ جھلس گیا اس کا دل وھی تھا سوچ بھی وہی زندگی کے بارے میں اس کے خواب اور آرزوئیں وہی تھی


مگر لوگوں کی اس کے بارے میں سوچ بدل چکی تھی کیونکہ اس کا ظاھر بدل گیا تھا لوگ چلتے چلتے رک کر ایک لمحے کے لیے ترس رحم اور خوف ذدہ نظروں سے اسے دیکھتے ھیں  - اور وہ ایک نظر انسان کو توڑنے کے لیے کافی ھوتی ھے  انسان کتنا بھی مضبوط ھو کب تک ایسی نظروں کا مقابلہ کر سکتا ھے


دوستوں کے ساتھ اس کی تصاویر دیکھائ جا رھی تھیں اٹھائیس برس کا ایک خوبصورت نوجوان جیسے لوگ آنکھوں میں ستائش لیے کچھ حسد کچھ رشک سے دیکھتے ھو ں گے اور اب کچھ دن میں دنیا بدل گئ  - دنیا والے تو ظاہر دیکھتے ھیں ۔ وہ کسی بات پہ ہنسا پتا نہیں ہنسی کرب یا بے بسی کا احساس ۔ اس کے مسخ شدہ چہرے سے کچھ اندازہ نہیں ھو رھا تھا ۔ وہ باتوں سے ایک زندہ دل ایک اچھی سوچ والا نوجوان لگ رھی تھا مگر اس کا چہرہ اس کی سوچ سے میچ نہیں ھو رھا تھا ۔


 ھم پہلی نظر میں کسی کے اچھے اور برے ھونے کی سند چہرہ دیکھتے ھی دے دیتے ھیں - کسی عام سے انسان کو بد شکل یا بد صورت کتنے آرام سے کہہ دیتے ھیں - ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ھوئے بھی سوچتے ھیں - کسی کے اچھے اور برے ھونے کا کچھ عرصے بعد ھوتا ھے  ھم عام انسان ھیں خدا تو نہیں جو پل بھر میں دل میں جھانک لیں کسی کی سوچ کو پڑھ لیں وہ اندر سے کتنا اچھا انسان ھے


میں کب سے سوچ رھی ھوں ۔ انسان بھی کیا ھے - سب ایک جیسے ھوتے ھیں بظاہر رنگ و روپ الگ ایک جیسا خون کا رنگ اگر کھال نہ ھو تو اندر سے ایک جیسا -- ایک جلد کا رنگ خوبصورت اور بد صورت بنا دیتا ھے صورت کیسی بھی ھو  مگر ھر انسان محبت عزت اور دنیا میں نام چاہتا ھے ۔ اتنا سوچنے اور غور کرنے کا وقت کس کے پاس ھے

بس اللہ اور اللہ والے جو حقیقت میں اللہ کے قریب ھوتے ھیں ان کے لیے امیر غریب خوبصورت بد صورت برابر ھوتے ھیں ۔ بلکہ ھر نبی کے قریب پہلے یہ عام سے لوگ ھو ھوتے ھیں اللہ والے پہنچان لیتے ھیں کون اندر کتنا خاص انسان ھے - ظاہری شان و شوکت جاہ و دولت حسن متاثر نہیں کرتا میں بھی ایک عام سی انسان ھوں جس کو ظاہر زیادہ متاثر کرتا ھے ٹی وی پہ نظر آنے والے  چہرے سے ھمدردی تو محسوس ھو سکتی ھے - مگر اس کے اچھے انسان ھونے کے نوے فیصد نمبر میں پہلی ھی نظر میں کاٹ چکی ھوں

Wednesday, March 13, 2013

انمول رتن


پاکستانی عوام کے لیے خوشی کی خبر ھے حنا ربانی کھر کو دنیا کی پر کشش ترین سیاستدان قرار دیا گیا ھے ۔۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز ھے ۔ باقی سیاستدانوں کو بھی چاھئیے وہ پر کشش بننے کی کوششیں تیز کر دیں حکومت کو چاھئیے پرسنائیلٹی بہتر بنانے کے لیے بھی ایک الاؤنس منتخب ارکان کو دینا چاھئیے ایسے عزاز اور پاکستان کو ملنے چاھئیے  دنیا کے مخلص ترین اور ذہین ترین سیاستدان پاکستان میں نایاب ھیں شاید پاکستان کی مٹی اس معاملے میں اتنی زرخیز نہیں اس لیے سیاستدان باھر سے منگوائے جاتے ھیں



سیاست کے انمول رتنوں کا ذکر ھو اور یوسف رضا گیلانی کا ذکر نہ ھو "" توہینِ سیاست "" ھو گی موصوف کا ریکارڈ  ھے وہ کسی ٹالک شو میں گئے ھوں یا کسی جلسے جلوس میں ھمیشہ نئے سوٹ میں گئے ھیں کوئ نئ بات ان کے خطاب میں ھوتی تھی یا نہیں مگر ٹائ ھمیشہ نئ اور قیمتی ھوتی تھی کسی کے گھر افسوس کرنے بھی گئے تو سوٹڈ بوٹڈ گئے ۔ انجیلینا جولی نے ان کے بارے میں کچھ اچھے خیالات کا اظہار نہیں کیا پتا نہیں بیچاری کچھ پاگل ھوگی ان کے قیمتی سوٹ گھڑی فیملی کے رھن سہن سونے اور چاندی کے برتنوں سے سجے ھوئے ڈنر  سے امپریس نہیں ھوئ ۔ پتا نہیں وہ سیلاب سے ڈوبتے ھوئے پاکستان کے وزیرِاعظم کو کیسا دیکھنا چاھتی تھی


اگر محبت کا ذکر آئے اور محترم صدر زرداری کے ذکر نہ آئے تو محبت کی کہانی نا مکمل رھے گی ۔ اب لوگوں کو شاہجہاں کا ذکر بھول جانا چاھئیے کہ اس نے اپنی مرحوم بیوی کی محبت کا کیسا اعلیٰ ثبوت دیا ۔ ھمارے صدر کو دیکھیں انھوں نے اپنی بیوی کے مرنے کے بعد ایک پل کے لیے بھی ان کی تصویر کو اپنے سے جدا نہیں کیا چاھے پارٹی میٹنگ ھو یا کوئ بین الاقوامی اجلاس ۔ کہیں قرض مانگنے جاتا ھے یا امداد بی بی تصویر ساتھ ھوتی ھے اس سے بڑی محبت کی کیا مثال ھو سکتی ھے ؟؟ ان کی محبت میں تاج محل نہیں بنوا سکتے تو کیا ھوا وہ پہلے سے بنی ھوئ عمارات کو ان کے نام سے منسوب کر رھے ھیں ۔ ملک ریاض کو چاھئیے تھا وہ بلاول ھاؤس کی جگہ بی بی کے نام سے تاج محل نہ سہی کوئ محبت کی یادگار تعمیر کرتے جہاں پہ دنیا بھر کے محبت کرنے والے آتے چڑھاوے چڑھاتے مرادیں مانگتے اور بنوانے والے کو دعائیں دیتے ملک ریاض کو چاھیے اب کوئ پروجکٹ شروع کرنے سے پہلے اس بندی سے مشورہ کر لیں اور مشورہ فری نہیں دیا جائے گا وہ کیسے کیسے کو نوازتے ھیں بندی ان سے بری ھے کیا


خوش قسمت ترین لوگوں کا ذکر کیا جائے تو  ذہن میں ھمارے وزیر ِ اعظم محترم راجہ پرویز اشرف کا نام آتا ھے موصوف نے عوام سے بہت سے وعدے کیے امیدیں دلائیں ۔ مگر اپنے کسی وعدے کو پورا نہیں کر سکے کچھ لوگوں کا خیال تھا وہ سزا کے حقدار ھیں مگر ھوا کیا - ان کا کہنا ھے وہ ایک رات سو رھے تھے ان کی بیوی نے انھیں جگا کر بیاتا انھیں وزیرِ اعظم بنا دیا گیا ھے خوش قسمتی کیسے دبے پاؤں بنا دستک دئیے زندگی میں داخل ھوتی ھے جب آپ سو رھے ھوتے ھیں کچھ لوگ ساری عمر جاگتے ھیں بہت کچھ سوچتے ھیں اور قسمت ٹھینگا بھی نہیں دیکھاتی ۔ اگر دولت ذھانت سے ملتی تو بے وقوف بھوکے مرتے - یا آپ یہ بھی کہہ سکتے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہنا کیا بس سمجھ جائیں



آنے والے وقت کے بارے میں کوئ نہیں جانتا مگر ھمارے محترم وزیرِ داخلہ رحمان ملک کی پیش گوئیاں اکثر پوری ھوتی ھیں وہ خبر دیتے ھیں دھشت گردی کی کاروائ ھوگی اور کتنے دھشت گرد شہر میں داخل ھو چکے ھیں لوگ ان کے بیان پہ کان نہیں دھرتے پھر واقعہ ھونے کے بعد وہ پھر ٹی وی پر آکر اپنی پیش گوئ پوری ھونے کی خوشخبری سناتے ھیں دیکھا میں نے کہا تھا نہ ۔۔۔ پتا نہیں جب سب پتا ھوتا ھے تو کوئ کاروائ کیوں نہیں کی جاتی ۔ آپ انھیں سیاست کا نجومی کہہ سکتے ھیں جس کا کام صرف یہ بتانا ھے کیا اچھا ھوگا کیا برا ۔ باقی آپ جانے اور آپ کا خدا جانے


موجودہ حکومت کے اور بھی بہت سے انمول رتن ھیں مگر ان کا ذکر پھر کبھی سہی - بس اللہ کی قدرت پہ حیرت ھوتی ھے اللہ نے بھی کیسے کیسے شاہکار پیدا کیے ھیں - موجودہ حکومت میں ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار ھے ۔ دنیا کے خوش قسمت ترین لوگ جو حکومت میں آنے کے بعد امیر ترین بھی ھو جاتے ھیں -