Wednesday, September 3, 2014

تم بھی کتنے پاگل ھو

تم بھی کتنے پاگل ھو
بے ضمیر لوگوں سے
امیدیں رکھتے ھو کیوں امیدیں رکھتے ھو
ایمان بیچ دیتے ھیں
دنیا کو پانے میں
ضمیر بیچ دیتے ھیں
فائدہ اٹھانے کو
نام اللہ کا لے کر
فرعون بن       جاتے ھیں
تم بھی کتنے پاگل ھو
چور اور لٹیروں سے
انصاف کی توقع ھے
کیوں یہ سمجھتے ھو
کیا تم سمجھتے ھو
 جب بھی یہ مل کر بیٹھے گے
تمہارا یہ سو چیں گے
تم بھی کتنے پاگل ھو
خاک پہ رھتے ھو
وہ محلوں کے باسی ھیں
تم کو وہ اپنے برابر لائیں گے ؟
تم یہ سمجھتے ھو
کیوں یہ سمجھتے ھو
پاؤں کی جوتی کو سر پہ بیٹھائیں گے ؟
تم کو تمہارا حق یہ دلائیں گے ؟؟
تم بھی کتنے پاگل ھو
تم بھی کیسے پاگل ھو
بار بار تم
دھوکےکھاتے ھو
پھر بھی ھمیشہ  تم
بے وقوف بن جاتے ھو
تم انھیں  کیا سمجھتے ھو
وہ تمہیں سمجھ پائیں گے ؟؟
تمہارے مسلے یہ سلجھائیں گے ؟؟؟
نجانے تم نے کیا کیا سپنے سجائیں ھیں
خاک پہ رہ کر کتنے محل بنائیں ھیں
تم کیوں نہیں سمجھتے
سامنے یہ تمہارے انسان  بن کر بیٹھے ھیں
 فرعون ھیں زمانے کے
تم یہ نہیں سمجھتے
کیوں نہیں سمجھتے
تم بھی کتنے پاگل ھو
تم بھی کتنے پاگل ھو


سعدیہ سحر