Thursday, October 11, 2012

ھم سب بکے ھوئے ھیں






مسلمانوں جاگو ۔ تم کب جاگو گے ۔ دیکھو یہ دجالی طاقتیں ھیں سمجھو
غور کرو ملالہ زخمی ھوتی ھے تو فوراً ھیلی کاپٹر آجاتا ھے اسے ایک اچھے ھسپتال میں داخل کروایا جاتا ھے میڈیا اس خبر کو بار بار نشر کر رھا ھے یہ دجال کے ھاتھوں بکے ھوئے لوگ ھیں طالبان کو پوری دنیا میں بد نام کرنے کے ایک سازش ھے


ارفع کریم کوما میں چلی گئ ۔ وہ کیا تھی پھر لوگوں کو پتا چلتا ھے ھر چینل پہ ایک ھی خبر چلتی ھے اور چلتی جاتی ھے
بہت سے لوگ اس سے پہلے نہیں جانتے پاکستان میں کوئ ارفع کریم بھی بستی ھے میڈیا ارفع کریم کے خاندان پہ ٹوٹ پڑتا ھے ۔ وہ کیا سوچتی تھی اس کے کیا عزائم تھے وہ کیا کرنا چاھتی تھی - ھر سیاست دان کو اس میں اپنی بچی نظر آنے لگتی ھے ۔ ارفع کریم کی خبر بریکنگ نیوز بن جاتی ھے ۔ وہ طالبان کی وجہ سے کومے میں نہیں گئ تھی پھر میڈیا اس خبر کے پیچھے کیوں تھا ؟؟ کون سی دجالی طاقتیں اس خبر کو بار بار چلوا رھی تھیں ؟؟؟


ایک لڑکا کچرا چنتا ھے اور امتحان میں نمایا کامیابی حاصل کرتا ھے ایک چینل پہ خبر چلتی ھے پھر دوسرا چینل میدان میں آجاتا ھے پھر ایک کے بعد ایک ۔ ایک اینکر پرسن اسے اپنے پروگرام میں بلاتا ھے دوسرا پیچھے کیوں رھے وہ بھی ایک پروگرام کرتا ھے ۔ جب میڈیا پہ خبر گرم ھو تو سیاست دان پیچھے کیسے رہ سکتے ھیں سیاست چمکانے کا ایک بہترین موقعہ خبروں میں آنے کا سنہری موقعہ کیسے گنوایا جا سکتا ھے بیان دئیے جاتے ھیں جیسے ان کی وجہ سے بچہ کامیاب ھوا ھے

صوبائ حکومت ایک لاکھ کا اعلان کرتی ھے تو وفاق کی طرف سے دو لاکھ کا اعلان ھوتا ھے پیسے کسی نے اپنے پلے سے نہیں دینے ھوتے بولیاں لگنی شروع ھو جاتی ھیں ھر کوئ سر توڑ کوشش کرتا ھے کہ وہ ثابت کرے وہ عوام کی حقیقی نمائندہ ھے ۔اور حقیقی نمائندے ایک پل کے لیے بھی یہ نہیں سوچتے ھزاروں اعلیٰ ذھن کچرا چننے میں مصروف ھیں انھیں کوئ اسکول میں داخل کروانے والا نہیں ھوتا وہ ان کے لیے بھی کچھ کریں

خبر کوئ بھی ھو مرچ مصالحے کے ساتھ پیش کی جاتی ھے اگر مصالحہ نہ ڈالا جا سکتا ھو تو عوام کو جذباتی کرنے کی کوشش کی جاتی ھے ایک جوان لڑکا کسی بے نام گولی کا شکار ھو جاتا ھے ایک چینل والے اس کے گھر پہنچ جاتے ھیں بوڑھے باپ سے پوچھا جاتا ھے جب وہ لاش کی شناخت کے لیے گئے تو ان کے کیا جذبات تھے ایک بے بس ماں سے پوچھا جاتا ھے جب لاش گھر آئ تو اسے کیا محسوس ھوا ۔ میت پہ آنے والے لوگوں کو سرسری سا دیکھایا جاتا ھے جو عورت سینہ پیٹ رھی ھو اس کا کلوز اپ لیا جاتا ھے جو بین کر رھی ھو اس پہ کیمرہ ٹھہر جاتا ھے خبر چلتی ھے اس  اینگل سے کوئ اور چینل نہیں دیکھا رھا ریٹنگ بڑھتی ھے ۔ ایک جوان بیٹے کے مرنے کے بعد گھر والوں کا کیا حال ھوتا ھے اس سے کسی کو کوئ دلچسپی نہیں ھوتی


ھم نیوز چینل لگاتے ھیں ایک خبر صبح چلتی ھے دوپہر کو ٹی وی آن کرتے ھیں پھر وہھی خبر شام کو پھر وہی خبر ھم بور ھو جاتے اور چینل بدل دیتے ھیں اگر کوئ نئی خبر ھو تو ھاتھ رک جاتا ھے ورنہ چینل بدل جاتا ھے ۔ درجنوں نیوز چینل ھیں اتنی نیوز کہاں سے آئیں نیوز بنانی پڑتی ھیں چوبیس گھنٹے چینل چلانا ھے اچھی ریٹنگ بھی چاھئیے مقابلہ سخت ھے - کوئ خبر ھو سب ھاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ھیں سیاست دانوں کو اپنی سیاست کی فکر ھے چینل والوں کو اپنے چینل کی فکر ۔ مذہبی تنظیمیں انھوں نے بھی اپنی دکانداری چلانی ھے ۔ دجالی فتنے سے ڈرایا جاتا ھے ھر طرف سازشوں کا ذکر ھوتا ھے - جن کی سوچ ھم سے ملتی ھے وہ مسلمان ھیں جو ھماری سوچ سے اتفاق نہیں کرتا وہ ھنود و یہود کا یجنٹ ھے ۔ دجال کا آلہ کار ھے وہ بکا ھوا ھے

ھم کتنے معصوم ھیں دجالی طاقتیں ھمیں خرید رھی ھیں ھمارے سیاست دانوں کو ھمارے ٹی وی چینلز کو ھمارے اینکر پرسن کو ھمارے اخبارات کو - وہ خرید رھے ھیں اور ھم اتنے اللہ لوک ھیں بکتے چلے جا رھے ھیں ان کی ھر سازش کامیاب ھو رھی ھے اور ھم ؟؟؟ ایک ارب سے زائد مسلمان دماغ کیا کر رھے ھیں ؟؟؟
ھم اپنے خلاف شازشوں میں مصروف ھیں ایک ملک دوسرے ملک کے خلاف
ایک تنظیم دوسری تنظیم کے خلاف
ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف
ھم ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنے میں مصروف ھیں اور خود کو سچا مسلمان سمجھتے ھوئے اس امید پہ ھیں اللہ کوئ معجزہ دیکھائے حالات اپنے آپ ٹھیک ھو جائیں ھم کچھ نہ کریں
ھم بکے ھوئے ھیں ھم سب بکے ھوئے ھیں