Monday, June 6, 2011

محبت اور زندگی







نوجوانوں کی پارٹی تھی جس کا موضوع بحث چل رھا تھا اے لیول کی پارٹی کیسے منائ جائے سب اپنی آئندہ زندگی کا پلان بنا رھے تھے وہ خاموشی سے بیٹھا سب کی باتیں سن رھا تھا اتنے میں اس کی گرل فرینڈ کیٹھرینہ ایک لڑکے کے ساتھ آئ وہ اسے چھوڑ چکی تھی بات کوئ خاص نہیں ھوئ تھی اور تین سال کا ساتھ چھوٹ گیا
سب دوست انکھوں ھی آنکھوں میں ایک دوسرے کے اشارے کر رھے تھے کچھ دوستی ختم ھونے کی وجہ جاننا  چاہ رھے تھے کیٹھرینہ اپنے دوست کے ساتھ جلد چلی گئ جانے کے بعد سب اب اس کا مذاق اڑا رھے تھے  اس لڑکے کی تعریف کر رھے اسے چھیڑ رھے تھے اسے سب اچھا نہیں لگ رھا تھا وہ چپ کر کے گھر آگیا
گھر آکر بھی کچھ اچھا نہیں لگ رھا تھا ماما پاپا دونوں سو رھے تھے وہ کسی سے بات کرنا چاہ رھا تھا آن لائن ھوا فیس بک پہ کافی دوست آن لائن تھے سب اسے چھیڑ رھے تھے مذاق بنا رھے تھے سب کے لیے دل لگی تھی مگر ھر بات اسے دل پہ لگ رھی تھی
 میری زندگی کا کیا مقصد ھے میری زندگی میں اب کچھ نہیں یہ اس کے آخری الفاظ تھے جو اس نے اپنے فیس بک اسٹیٹس پہ تحریر کیے
وہ گھر سے باھر آیا آوارہ گھومتا رھا گھومتے گھومتے ریلوے لائن تک آیا سامنے سے تیز رفتار ٹرین آرھی تھی وہ سامنے آگیا کچھ سیکینڈ کے بعد وہاں اس کے جسم کے درجنوں ٹکڑے بکھرے ھوئے تھے ھر طرف خون تھا


یہ سچا واقعہ ھے جو ھفتے کے روز یہاں پیش آیا
زندگی کیا ھے اس کا مقصد کیا ھے میں یہی سوچ رھی ھوں
کیا کسی ایک کی محبت ھی سب کچھ ھوتی ھے
کیا ماں باپ کا زندگی میں کردار صرف اتنا ھوتا ھے کہ وہ پال پوس کر بڑا کر دیں

ان کے کوئ ارمان نہیں ھوتے کوئ خواب نہیں ھوتے
پاکستان میں بھوک بیماری ھر موڑ پر کئ امتحان ھوتے ھیں انسان بہت کچھ کرنا چاھتا ھے وہ بہت کچھ کر بھی سکتا ھے مگر وہ بے بس ھوتا ھے آخر مایوسی کی حد یں ختم ھو تی ھیں اور وہ خود کشی کر لیتا ھے

یورپ میں محلوں میں رھنے والے دنیا کی ھر آسائش پانے والے جنھیں آنکھیں کھولتے دنیا کی ھر آسائیش میسر ھوتی ھے مگر انھیں زندگی میں دلچسپی نہیں ھوتی یہ پہلے واقعہ نہیں اس سال میں یہ تیسرا واقعہ
ھے جو ھمارے جاننے والوں میں ھمارے علاقے میں ھوا ھے زرا سی بات پہ دلبرداشتہ ھو کر زندگی کا خاتمہ کرلینے کا