Wednesday, June 13, 2012

دوراہا





سچائ پہ دنیا قائم ھے ۔ میں سچائ کا علمبردار ہوں ۔ میں سچ کہتا ہوں سچ کا ساتھ دیتا ہوں ۔ سچ لکھتا ہوں ۔ وہ سچ جن سے لوگ نظریں بچا کر گزر جاتے ھیں ۔ میں ان سچ دنیا کے سامنے لاتا ہوں ۔ میں سچ کی طاقت جانتا ھوں ۔ سچ سقراط ہے جو مر کر بھی زندہ رہتا ھے ۔ میں اپنی زندگی میں ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا ھے مجھے اس پہ فخر ھے


میں اچھے لوگوں کی قدر کرتا ہوں اور میں نے زندگی میں دیکھا ھے لوگ بھی سچائ کا ساتھ دیتے ھیں لوگ میری عزت کرتے ھیں وہ میری عزت نہیں کرتے میرے سچ کی عزت کرتے ھیں قدر کرتے ھیں میرے بہت سے قدردان ھیں جو میری حوصلہ آفزائ کرتے رھتے ھیں میری کوششوں کو سراھتے رھتے ھیں


ان میں سے ایک قدر دان نے مجھے ایک فلیٹ تحفے میں دیا ۔ میں رشوت لینے اور دینے کے سخت خلاف ہوں میں نے آج تک نہ رشوت لی ھے نہ دی ھے ۔ میں رسول ِ کریم کے اس ارشاد سے بھی واقف ہوں دسولِ خدا نے فرمایا ملنے جلنے اور تحفے تحائف دینے سے محبت بڑھتی ھے اس لیے میں ھر طرح کے لوگوں سے ملتا ہوںاور اگر کوئ تحفہ دے چاہے وہ کتنا بھی نا پسندیدہ ھو اسے قبول کر لینا چاھئیے وہ تو پھر فلیٹ تھا  تحفے دینے کی حثیت تو نہیں مگر کبھی کبھی ان کی دریا دلی کے بارے میں لکھ دیتا ھوں


میں الحمداللہ  مسلمان ہوں میں ٹائ لگاتا ھوں تھری پیس سوٹ پہنتا ھوں ڈاڑھی نہیں رکھتا کیونکہ جانتا ھوں اسلام میں ڈاڑھی ھے ڈاڑھی میں اسلام نہیں میں دل سے مسلمان ھوں


آج بھی میں سچ لکھنا ھے اپنے اسی قدردان کے بارے میں --- میرے ھاتھ میں ترازو ہے دین اور دنیا میرے سامنے ھیں  میں چاہتا ہوں دین بھی پاس رھے اور دنیا بھی ھاتھ سے نہ جائے اس وقت میں عجیب کشمکش میں ہوں  - ایسا دوراہا میری زندگی میں پہلے کبھی نہیں آیا