Saturday, September 5, 2009

بحران ھی بحران



پہلے آٹے کا بحران تھا ابھی لوگ آٹے کی لائنوں میں لگے ھوئے تھے 
چینی کا بحران آگیا 
ابھی ٹی ؤی پہ آرھا تھے پٹرول مہنگا ھورھا ھے ساتھ ھی بہت سے شہروں میں پٹرول ناپید 
ھوگیا ھے
ابھی رمضان میں منافع خوروں کا پتا نہیں کس کس چیز کو مارکیٹ سے غائب کرنا ھے 
کھانے پینے کی چیزیں تو نا پید ھے ھی 
پہلے ٹالک شو ھورھے تھے قیادت کا بحران ھے 
سب بحران ھیں مگر کبھی چوروں لٹیروں کا بحران نہیں ھوا اس میں ھم خود کفیل ھیں
بھوکے ننگے ملک کی عوام کو لوٹنے کے لیے اچھے کھاتے پیتے ملک کے لوگ آتے ھیں
ھمارے حکمرانوں کو چاھیے ان سے کہہ دیں پاکستان کو کھانے کے لیے ھم ھی کافی ھیں
تم جا کر اپنے ملک کو لوٹوں مگر ھمارے حکمران ایسے کیسے کہہ سکتے ھیں
آخر ان کے محل ان کے بنک بینلس وہی ھیں بلکہ جب ملک کو لوٹ کر بھاگنا ھے تو ان ھی ممالک میں بھاگنا ھے
کبھی دھشت گردوں کے بحران بھی آئے 
رشوت خور آفسران کا بحران بھی آئے 
ملک دشمن عناصر کا بھی بحران آئے 
خود غرض اور مفاد پرست سیاست دانوں کا بھی بحران آئے 
پارلیمنٹ میں لوٹوں کا بحران آئے جو ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں 
لڑکھتے پھرتے ھیں
آخر پاکستان میں ھر آفت غریب عوام کی قسمت میں ھی کیوں لکھی ھے