Wednesday, September 23, 2009

میرے وطن میں عید کسی ھوئ ھوگی



رمضان میں جن کے روزے آٹے کی لائینوں میں گزرے
جو لوگ میٹھی عید منانے کے لیے چینی کو ترستے رھے
جن کے پیارے روزے میں ایک وقت کی روٹی کے لیے قدموں تلے روندھے گئے
جن کے سحری اور افطاری وقت بھی فاقے ھوتے رھے
ان کی عید کیسی گزری ھوگی
حیرت کی بات ھے نہ
ایک ھی سرزمین
ایک ھی ملک ایک ھی جیسے لوگ مگر زندگیوں میں اتنا فرق
کچھ لوگوں نے لاکھوں کی شاپینگ کی
لاکھوں روپے افطاریوں پہ لٹا دیئے
جس ملک کے صدر کے کتوں اور گھوڑوں پہ لاکھوں خرچ ھوتے ھیں
وزیرِ اعظم لاکھوں کی گھڑی اور کپڑے زیب تن کرتے ھے
جس کے پارلیمنٹ اور ایوان صدر کی آرائش پہ کروڑوں خرچ ھوتے ھیں
جس ملک میں ایک ارب روپوں کے قریب لوگوں نے فطرانہ دیا
جہاں کروڑں روپے کی زکات دی صدقات دیئے
اور اس ملک کے لوگ ایک وقت کی روٹی کے لیے
اپنے بچے بیچ رھے ھیں
فاقے کر رھے ھیں
حالات سے تنگ آکر خودکشی کر رھے ھیں