Saturday, September 5, 2009

ھماری عوامی حکومت کیا چاھتی ھے؟؟؟

کچھ دنوں سے ھر جگہ ایک ھی بحث‌ چل رھی ھے جو نئے قانون کے بارے میں ھیں 
آپ سب سمجھ گئے ھوں گے میں کس قانون کی بات کر رھی ھوں 
جی بلکل ٹھیک سمجھے 
حکومت کے بارے میں ایس ایم ایس کرنے پہ چودہ سال کی قید اور جائداد کی ضبطی --------
اس قانون کے بہت سے فوائد ھیں

نمبر 1- ملکی خزانہ بھرے گا حکومت کے خلاف ایس ایم ایس وہی لوگ کرتے ھیں جو صاحبِ حثیت ھوتے ھیں - وہ لوگ ٹیکس بھی نہیں دیتے اسی بہانے ان کی جائداد حکومت کے قبضے میں آجائے گی 

نمبر 2 - اگر ایسی ایس ایم ایس کوئ غریب کرے گا تو قید کی سزا ھو جائے چودہ سال کے لیے دال روٹی کے خرچ سے آزادی آٹے کے لیے لائن میں نہیں لگنا پڑے گا پکی پکائ روٹی ملے گی بے فکری سے زندگی کے چودہ سال گزریں گے 

نمبر 3 - آج کل ایک اور موضوع ھے جس پہ بہت بحث ھورھی ھے قیادت کا بحران ------
آپ سب تو جانتے ھیں ھمارے صدر صاحب اور وزیر اعظم بھی جیل سے تربیت حاصل کر چکے ھیں پاکستان کی تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ھے جو بھی جیل گیا ھے ھمارا لیڈر بن کر نکلا ھے اگر ھزاروں لوگ جیل جائیں گے تو آنے والے چند سالوں میں ھم قیادت کے معاملے میں خود کفیل ھو سکتے ھیں امید ھے بہت سے نئے لیڈر ہمیں ملیں گے جو جیل کی باتیں سنا سنا کر عوام سے ووٹ طلب کریں گے ملکی قیادت جاگیرداروں سے عام عوام میں منتقل ھو جائے گی


پتا نہیں کیوں لوگ حکومتی پالیسیوں پہ تنقید کرتے ھیں بغور جائزہ کیوں نہیں لیتے -
یہ کسی آمر کی حکومت نہیں ھے عوام کی منتخب کردہ نمائندے ھیں یہ ایک عوامی حکومت ھے اور عوامی حکومت عوام کے بھلے کا نہیں سوچے گی تو کون سوچے گا

محترم وزیرِ داخلہ ھم آپ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ھیں آپ اتنے ذہین ھیں میرے خیال میں تو وزیرِ خارجہ وزیرِ قانون کے عہدوں کے بھی آپ ھی حقدار ھیں 

میری جیف جسٹس سے مودبانہ گزارش ھے وہ اس بات کا از خود نوٹس لیں اور جناب رحمان ملک کو انعام و اکرام سے نوازے 
آج تک کسی نے اتنے عوام دوست قانون نہیں بنائے امید ھے ھمارے وزیرِ داخلہ کا نام تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا