Wednesday, May 18, 2011

اس میں برائ کیا ھے




گذشتہ دنوں اس موضوع پہ کافی لکھا گیا حجاج اکرام کو سہولیات نہیں دیں گئیں جو دینی چاھئیے حج جیسے مقدس فریضے میں بھی کرپشن کی گئ 
کسی نے مجھ سے  کہا کیا انھیں خدا کا خوف نہیں جو لوگ زکات صدقہ  
یتیموں کا حق تو کھاتے تھے اب حج جیسے  مقدس فریضہ میں بھی کرپشن کر رھے ھیں 

نجانے لوگ ھر بات کا منفی پہلو کیوں دیکھتے ھیں  کیا پتا ان کی نیت کیا تھی اللہ تو نیت کو دیکھتا ھے ھمیشہ اچھا سوچنا چاھئیے 

ھو سکتا ھے وہ دیکھنا چاہ رھے ھوں حق حلال کی خون پسینے کی کمائ کا ذائقہ کیسا ھوتا ھے 


ھو سکتا ھے انھوں نے یہ سوچا ھو اگر حجاج اکرام کو اچھی سہولیات دی گئیں آرام پہنچایا گیا تو وہ کہیں اللہ کے ذکر کو بھول کر سکون کی نیند سو جائیں 


تکلیف میں انسان اللہ کو زیادہ یاد کرتا ھے وہ چاھتے ھوں سب حجاج اکرام دنیا کی آسائشوں کو بھول کر اللہ کے زیادہ قریب ھو جائیں اور دل کی گہرائیوں سے اللہ کو یاد کریں

 
پھر آج کل رشوت لینا اور دینا  کون سا گناہ ھے سب بہتی گنگا میں ھاتھ دھوتے ھیں اگر ان لوگوں نے بھی بہتی گنگا میں سے چلو بھر پانی پی لیا تو کیا ھوا 


پیسوں کی برسات ھو رھی ھوتی ھے مگر کچھ لوگ شرافت کی چھتری تان کے بیٹھے ھوتے ھیں یہ کیا ھوا برسات ھو اور انسان سوکھے کا سوکھا رھے بارش کا کیا اعتبار آج ھو رھی ھے کل نہ ھو 


مجھے اسی لیے غریب لوگ اچھے نہیں  لگتے سوچتے بہت ھیں جو کام کر رھے ھیں غلط ھے یا ٹھیک ھے غلط کام کرتے ھوئے کوئ دیکھ نہ لے 
کہیں پکڑے نہ جائیں 

دنیا والے کیا کہیں گے 

دنیا والوں کو کیا منہ دیکھائیں گے 

نجانے کتنی سزا ملے 

اگر دنیا کی سزا سے بچ گئے تو اللہ کی سزا سے کیسے بچیں گے 


مجھے اپنے ملک کے نامی گرامی لگ اسی لیے اچھے لگتے ھیں ان کو دیکھ کر خوشی ھوتی ھے جو چاھتے ھیں  بن داس ھو کر کر ڈالتے ھیں اچھا برا کیا سوچنا ۔ جب اللہ دے تو بندہ کیوں نہ لے 
میں نے اپنی دوست " م " سے کہا کچھ لوگوں کو دیکھ کر لگتا ھے ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاھی میں ھے 

تو وہ کہنے لگی جب سر کڑاھی میں ھے تو بندہ باہر کیوں ھے ایسے لوگوں کو تو دیکھ کر دل کرتا ھے ان کے پورے وجود کو کڑاھی میں ڈال کر پکوڑے کی طرح  فرائ کر دوں 

میں نے اس سے کہا انسان کا گوشت حرام ھے اتنا بڑا پکوڑا کون کھائے گا وہ بھی حرام 

خیر حج بھی ھو گیا حجاج اکرام کی واپسی کا عمل بھی شروع ھو گیا حکومت کی شرمندگی کچھ لمحوں کی ھوتی ھے کیونکہ اگلے لمحے پھر کوئ ایسا واقعہ ھو جاتا ھے جس پہ زیادہ شرمندہ ھونا پڑتا ھے اب تو ڈھائ سال ھو گئے شرمندہ ھوتے ھوئے اب تو سب شرمندگی پروف ھو گئے ھیِں اب اور بھی کام ھیں جو کرنے ھیں اب کیا بندہ بس شرمندہ ھی ھوتا رھے 


ویسے بھی انسان ایک ھی کام کرتے کرتے بور ھو جاتا ھے پہلے بہت سے واقعات کی مذمت کی جاتی تھی اب وہ تکلف بھی چھوڑ دیا ھے ھر واقعے کے بعد لوگوں کو پتا ھوتا تھا بھی مذمتی بیان آئے گا اب ایک ھی بیان انسان کتنی بار دے کبھی لگتا تھا یہ پرانی ریکارڈنگ چل رھی ھے پھر تھری پیس سوٹ دیکھ کر ٹائ دیکھ کر اندازہ ھوتا تھا نہیں آج کا ھی بیان ھے 

دیکھتے ھیں اگلی بار کیا تبدیلی آتی ھے وزارت بدلی جائے گی یا   سہولیات میں بہتری آئے گی 
دیکھ لیں موضوع حجاج اکرام کی سہولیات سے شروع ھوا تھا گھوم کر وہیں پہ ختم ھو رھا پس ثابت ھوا دنیا گول ھے