Wednesday, October 26, 2011

زندگی اور موت


میں یہ تصویر کافی دیر تک دیکھتی رھی
کیا یہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت نہیں


موت ۔۔۔ منوں مٹی تلے ۔ خالی ھاتھ دنیا کا سب مال و دولت دنیا میں رہ جاتا ھے
جب کوئ کسی کو دفناتا ھے تو کیا ایک پل کے لیے اسے اپنی زندگی کی حقیقت سامنے نہیں آتی
وہ یہ نہیں سوچتا کچھ عرصہ کے بعد اس نے بھی یہیں آنا ھے
کتنا بھی جی لے
پچاس سال ۔ ستر اسی یا سو سال ۔ اس دنیا کو چھوڑ کر سب آسائیشوں کو چھوڑ کر مٹی بن جانا ھے
اس تصویر میں موجود سبھی لوگوں میں سے کتنے ھیں جن کی روح ایک پل کے لیے لرزی ھوگی ۔ مجھے کسی کے چہرے پہ کچھ نظر آرھا -
یہ قبر ھے مادرِ جمہوریت کی جنھیں کے نام سے نوازا گیا وہ پندرہ سال سے ایک زندہ لاش تھیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں جب بھی جمہوریت کا نام آیا تو کبھی کسی نے ان کا نام نہیں سنا ان کی قربانیوں کا زکر نہیں سنا کبھی ان کی صحت یابی کی دعا کروائ گئ ۔ جب وہ زندہ تھی تو سب ایسے بھولے ھوئے تھے جب مر گئیں تو ھر کوئ ان کے گن گا رھا ھے
کیا ھی اچھا ھو جب انسان زندہ ھو تو اس کی خوبیوں کا زکر اپنی محبت کا زکر اس کے سامنے کیا جائے اس کو نوازا جائے
مگر یہ دنیا ھے ۔۔ اور ان کا تعلق تو سیاست سے تھا لگ رھا ھے ان کی زندگی سے سیاست کی گئ اور موت پہ بھی