Sunday, May 12, 2013

11 مئ ۔ انتخاب کا دن





صبح ٹی وی آن کیا پہلی خبر مختلف پولنگ اسٹیشنوں پہ ھنگامے اور دھاندلی کی خبر چل رھی تھی ۔ خونی انتخابات کی پیشگوئیاں ۔ دھشت گردی کی خوف کی وجہ سے کچھ پارٹیز کی طرف سے انتخابات کچھ عرصے کے لیے روکنے کا مشورہ اور امن کے بارے میں بیانات کانوں میں گونجنے لگے

ڈر لگنے لگا ابھی دن کی ابتدا ھے رات تک نجانے کیا ھو مگر خیریت رھی صرف گنتی کے کچھ لوگوں کی ہلاکت اور زخمی ھونے کی خبر آئ ۔ پاکستان کے لیے یہ اتنا بڑا ایشو نہیں -


سوشل میڈیا پہ کافی گہمہ گہمی رھی ۔ ساتھ ساتھ لوگوں کے تبصرے آتے رھے - کراچی کے بہت سے لوگ چلاتے رھے کھلے عام دھاندلی ھو رھی ھے فوج کو آنا چاھئیے مگر ایسا کچھ نہیں ھوا ۔ اور ووٹنگ مکمل ھو گئ -


بہت سے پولنگ اسٹیشن پہ پولیس بھی موجود تھی مگر انھوں نے کسی بھی کام میں مداخلت نہیں کی - ھو سکتا ھے وہ اس لیے تعینات کئے گئے ھوں تاکہ دھاندلی مکمل طریقے سے ھو سکے اور عوام کوئ گڑ بڑ نہ کریں اور ایسا ھی ھوا ۔ عوام خوش فہمی میں مبتلا تھی شاید پولیس دھاندلی روکنے کے لیے موجود ھے ۔ اب عوام کی خوش فہمی کو کیا کہئے ۔ خوش فہمیوں کا بھی کوئ علاج نہیں - کچھ خواتین نے وہاں پہ موجود رینجرز کو خوش  ھو کر چوڑیوں کا تحفہ بھی دیا ۔ مرد مرد کو تحفہ دے تو بھائ چارہ کہلاتا ھے ۔ پتا نہیں اس نئے رواج کو کیا نام دیا جانا چاھئیے ۔ پہلے زمانے میں ڈوپٹہ بدل بہنیں ھوتی تھی اب چوڑیاں بدل کیا کہلائیں گے ؟؟


آج کے دن بہت سے ریکارڈ بنے - کچھ لوگوں نے بتایا وہ کام پہ تھے مگر ان کا ووٹ ڈال دیا گیا ۔ اس کے لیے ھمیں نامعلوم افراد کا شکریہ ادا کرنا چاھئیے انھیں عوام کا کتنا خیال ھے وہ نہیں چاھتے لوگوں کا نقصان نہ ھو لوگ اپنا کام سکون سے کرتے رھیں نامعلوم افراد ان کا کام کر دیں گے ۔ میں نے سوچا ھے اگلی بار میں اپنا ووٹ نامعلوم افراد کو دوں گی ۔ کیسے فرشتہ صفت انسان ھیں - فرشتوں کی طرح سامنے نہیں آتے مگر اپنے کام کرتے رھتے ھیں -


ایسا دنیا میں کہیں نہیں ھوا ھوگا ۔ جہاں ووٹرز کی تعداد پچاس ھزار بھی نہیں وہاں لوگ ایک ایک لاکھ کی برتری سے جیت گئے - لگتا ھے ان حلقہ جات میں مُردوں نے ھی نہیں آنے والی نسلوں نے بھی ووٹ ڈالے ھیں ۔ ھے نا کمال کی بات -



دنیا کی تیز ترین ووٹنگ کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ھو گیا ھے ۔ دو لاکھ لوگوں نے وقت سے پہلے ووٹ ڈالا ۔ اور دو گھنٹوں میں گنتی بھی مکمل ھو گئ اور رزلٹ بھی سامنے آگیا ۔ یہ گینس بک کے ریکارڈ  میں آنے والی خبر ھے ۔ اتنی تیز ووٹنگ اور گنتی ۔ کمال کے لوگ ھوں گے وہ بھی - کچھ پولنگ اسٹیشنز کا رزلٹ رات ایک بجے تک نہیں آیا تھا ۔ لگتا ھے وہاں کے لوگ بار بار گنتی بھول جاتے ھوں گے ھزار پہ جا کر پھر ایک پہ آجاتے ھوں گے سانپ سیڑھی کے کھیل جیسے ۔


دنیا کے بزرگ ترین نگران وزیرِ اعظم اور بزرگ ترین چیف الیکشن کمیشنر بھی اسی دور میں بنے ۔ عام لوگوں کا خیال ھے ساٹھ سال کی عمر کے بعد انسان سٹھیا جاتا ھے اور ستر برس کی عمر کے بعد انسان خود نہیں چل سکتا ۔ اور انھوں نے حکومت چلائ اور پورے ملک میں الیکشن بھی کروائے ۔ یہ اور بات ھے کچھ لوگ کہتے ھوئے پائے گئے الیکشن مکمل شفاف نہیں ھوئے


انتخابات شفاف تھے یا نہیں ۔ کچھ حلقہ جات میں کچھ عجیب سے واقعات ھوئے ھیں ۔ ووٹ ڈالے اور تھے جب نکلے تو رزلٹ کوئ اور تھا ۔ اسے جادو ھی کہا جا سکتا ھے ۔ کچھ لوگ اسے کھلی دھاندلی کہتے ھیں مگر کھل کر کچھ نہیں بولتے ۔ لوگوں کا ماننا ھے الیکشن ہارنا جان ہارنے سے بہتر ھے ۔ اس لیے خاموشی بہتر ھے ۔ ایک چپ سو سکھ -


انتخابات جیسے بھی ھوئے ٹرن آؤٹ ساٹھ فیصد رھا یہ بھی ایک ریکارڈ ھے - حکومت جس کی بھی بنے ھم اس کے پیچھے ھیں اگر اچھا کام کیا تب بھی اور اگر غلط کام کیا تو عوامی طاقت کے ساتھ عوامی ڈنڈا لے کر ۔