Sunday, May 19, 2013

کچھ سچ







نواز شریف نے کہا وہ لوگ جو آمریت کی گود میں بیٹھ کر سیاست میں ائے ھیں وہ جمہوریت کو کیا جانے


شہباز شریف نے کہا وہ حکمران اور عوام کے درمیانی خلیج کو کم کرنا چاھتے ھیں وہ اپنے سپیشل طیارے پہ چھ ھزار فٹ کی بلندی پہ سفر کر  رھے تھے


صدر زرداری نے اپنی چیک بک دیکھتے ھوئے کہا قومی خزانہ خالی ھو چکا ھے


وزیرِ تعلیم نے اپنی جعلی ڈگری دیکھتے ھوئے کہا وہ تعلیم کے فروغ کے لیے کام کریں گے

واپڈا کے افسر نے  ائر کنڈیشن کی ٹھنڈی ھوا کے مزا لیتے ھوئے کہا وہ عوام کی تکلیف کو سمجھتے ھیں

ایک کیو ایم کی طرف سے بیان آیا الیکشن شفاف نہیں ھوئے دھاندلی ھوئ ھے


ایک وزیر نے پر جوش لہجے میں تقریر کرتے ھوئے کہا وہ اسلحے کی کھلے عام نمائش کے خلاف ھیں حکومت کے چاھئیے وہ اس کا نوٹس لے ۔ جیالوں نے ھوائ فائرنگ کر کے اس بیان کی پر جوش حمایت کی


ایک سیاست دان نے بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے بیان دیا عوام کی جانیں محفوظ نہیں


شیریں رحمان نے پی پی کی پانچ سالہ دورِ حکومت کے اختتام پہ بیان دیا ڈرون حملوں میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ھیں ڈرون حملے بند ھو نے چاھئیے


نامعلوم افراد نامعلوم طرف سے آئے لوگوں کو مارا اور نا معلوم مقام پہ رو پوش ھو گئے


الطاف بھائ نے بیان دیا ایرے غیرے نتھو خیرے دو دو گھنٹے کی تقریر کرتے ھیں اور میڈیا انھیں ھیرو بنا کر پیش کرتا ھے -


ایک سیاستدان نے دوسرے سیاستدان کے ماضی کو کھنگالتے ھوئے کہا ھماری کردار کشی نہ کی جائے


پانچ سال تک ھاتھ پہ ھاتھ رکھ کر بیٹھنے والے وزیروں نے کہا انھیں موقعہ دیا جائے وہ عوام کی خدمت کرنا چاھتے ھیں


بات بات پہ عوام کے فون بند کرنے والے وزیر کا اپنا فون کئ روز سے بند ھے


مولانہ فضل الرحمان کو سیاست میں رھنے کا شوق نہیں وہ صرف عوام کی خدمت کے لیے سیاست میں رھنا چاھتے ھیں -- کسی بھی قیمت پہ


ماضی منصور نے سچ کا ساتھ دیا اور وہ امر ھو گیا ۔۔۔۔ حال -- منصور کے سچ اور حق کا ساتھ دیا اور وہ بے نام مارا گیا ۔ ایف آئ آر بھی درج نہیں ھوئ


پہلے دنیا میں ایک فرعون تھا ۔ جو حکمران تھا ۔ آج فرعون با جماعت حکمرانی کے لیے آتے ھیں


سچ کڑوا ھوتا ھے جو سچ بولتا ھے اسے مرنا پڑتا ھے ۔ سقراط سے لے کر اب تک سچ بولنے والا مر جاتا ھے مگر سچ گونجتا رھتا ھے