Wednesday, October 24, 2012

بے رحم موت


سنتے آئے ھیں محبت اندھی ھوتی ھے ۔۔ وہ کچھ نہیں دیکھتی یہ تو میں نہیں جانتی محبت حقیقت میں اندھی ھوتی ھے کچھ دیکھتی سنتی ھے یا نہیں مگر مجھے یقین ھے موت اندھی ھوتی ھے وہ نہ حسن دیکھتی ھے نہ عمر نہ دولت نہ جوانی - پل بھر میں آکر دبوچ لیتی ھے نہ انسان خود کچھ کر سکتا ھے نہ اس سے وابستہ اس سے محبت کرنے والے لوگ


موت پل بھر میں سامنے آ کھڑی ھوتی ھے کچھ سوچنے کا کچھ کہنے سننے کا وقت بھی نہیں ملتا آس پاس کے لوگ بے یقینی سے دیکھتے رہ جاتے ھیں کتنا نا قا بل ِ یقین لمحے ھوتے ھیں کل وہ انسان جو ھمارے ساتھ تھا زندگی سے بھر پور ۔ اپنی زندگی کے ھزاروں پروگرام بناتا ھوا ھنستا کھیلتا جس کے بارے میں ھم سوچ بھی نہیں سکتے وہ بچھڑ گیا ھے آسمانوں کو چھونے کی تمنا کرنے والا انسان منوں مٹی تلے جا چکا ھے



موت اندھی ھی نہیں بے حس بھی ھوتی ھے ۔ کبھی ایسا ھوتا ھے لوگ لمبی عمر کی دعا مانگ رھے ھوتے ھیں ۔ یہ نہیں کہ ان کے دل میں کوئ کھوٹ ھوتا ھے ۔ صدقِ دل سے مانگی ھوئ دعا ئیں ھوا میں تحلیل ھو جاتی ھیں زندگی ہار جاتی ھے اور موت ھزار منتوں کے باوجود اس وجود کو اپنے ساتھ کے جاتی ھے


اور کبھی ایسا ھوتا ھے انسان کے لیے ایک ایک سانس بھی بوجھ ھوتا ھے زندگی صرف تکلیف دہ احساس بن کر رہ جاتی ھے ھر لمحہ یہ انتظار رھتا ھے کب موت مہربان ھو جائے مگر موت دور کھڑی سب دیکھتی رھتی ھے

میری دوست کی امی کی یہ حالت دیکھی ھے انھیں کینسر تھا بہت تکلیف تھی ان کی تکلیف ان کی حالت سب دیکھنے والوں کے لیے بہت اذیت ناک تھا - وہ کہتی تھی ساری عمر میں نے صبر و شکر سے گزاری اب کوئ ایسی بات منہ سے نہیں نکالنا چاھتی جس سے میرا رب ناراض ھو کبھی اتنی تکلیف ھوتی ھے جی چاھتا ھے اپنے لیے موت کی دعا مانگو مگر یہ جائز نہیں زندگی اللہ دیتا اسے اپنے ھاتھ سے ختم کرنے کا حق انسان کو نہیں  میں سوچتی تھی جب موت ھی مقدر ھے تو پھر اتنی تکلیف کیوں - انسان ایڑیا رگڑتا رھے موت ترسا ترسا کر کیوں آتی ھے قطرہ قطرہ ۔ ایک ایک قدم اٹھاتی ھوئ


موت بے رحم ھوتی ھے وہ یہ بھی نہیں دیکھتی دنیا میں اس کی کتنی ضرورت ھے اس سے وابستہ لوگ کیسے جئیے گے ان کی محبت کی کمی کوئ پوری نہیں کر سکے گا ان کی جگہ کوئ نہیں لے سکے گا ان کی زندگی میں ایک خلا ھمیشہ رھے گا

ھماری بلاگر ساتھی جن کی تحاریر اور فیس بک پہ تبصرہ جات پڑھتے رھتے تھے ان کی وفات کی خبر ملی جس پہ ابھی تک مجھے یقین نہیں آیا ان کی بیٹی کا ِخیال بار بار آرھا ھے کہتے تو ھیں کسی کے جانے سے زندگی ختم نہیں ھوتی آہستہ آہستہ  لوگ جینا سیکھ لیتے ھیں - مگر عنیقہ جس طرح مشعل کے لیے سوچتی اس کی ھر بات پہ خوش ھوتی تھی اس کی ھر بات کو انجوائے کرتی تھی سمجھاتی تھی - اس کی جگہ کوئ نہ لے سکے عنیقہ کے ساتھ ساتھ مشعل کے لیے بھی ڈھیروں دعائیں ھیں اللہ ھمیشہ اس کے ساتھ رھے آمین